پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں من گھڑت اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ عوام میں کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے جعلی اطلاعات پھیلائی جا رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک مبینہ نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز میں کمی کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے درآمد کنندگان اور صارفین کے لیے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے اور پی ٹی اے نے اس نوعیت کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ موبائل فونز پر لاگو ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں فی الحال کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پالیسی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس طرح کی غلط خبروں کا مقصد صارفین اور کاروباری حلقوں کو گمراہ کرنا اور مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کرنا ہے۔
موبائل فونز سے پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جائے، علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو خط لکھ دیا
اتھارٹی نے عوام، موبائل فون درآمد کنندگان، ڈیلرز اور کاروباری برادری کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر ہرگز یقین نہ کریں۔ پی ٹی اے نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی پالیسی، ٹیکس یا ریگولیٹری تبدیلی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ، تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے مستند ذرائع سے رجوع کیا جائے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں جعلی خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں، اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی خبر کو آگے پھیلانے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں۔ اتھارٹی نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ جعلی نوٹیفکیشن بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں موبائل فونز پر ٹیکسز سے متعلق افواہوں کے باعث صارفین اور درآمد کنندگان میں تشویش پائی جا رہی تھی، تاہم پی ٹی اے کی اس وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ موبائل فون ٹیکس پالیسی میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
