کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت کسی بھی جماعت کو سڑکیں بند کرنے یا عوام کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو ریاستی ادارے حرکت میں آئیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا لنجار نے کہا کہ شاہراہوں کو بند کرنا صریحاً قانون کی خلاف ورزی ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کرے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری اور جماعت کا جمہوری حق ہے، مگر اس کی آڑ میں سڑکیں بند کرنا، ٹریفک جام کرنا اور دکانیں زبردستی بند کرانا ناقابل قبول ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے جماعت اسلامی کی جانب سے شارع فیصل بند کرنے کے واقعے پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کر کے قانون کی کھلی خلاف ورزی کی، اور اس اقدام کے خلاف درج مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونی چاہیے تھیں۔ ضیا لنجار کے مطابق اگر ایسے مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی جائیں تو آئندہ کسی بھی جماعت کو مرکزی شاہراہیں بند کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سڑکیں بند کرنے سے نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ایمرجنسی سروسز، مریضوں اور طلبہ کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال اور روزگار کا تحفظ کرے، اسی لیے حکومت کسی کو بھی قانون توڑنے کی اجازت نہیں دے گی۔
ضیا لنجار نے بتایا کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کو واضح پیغام پہنچا دیا ہے کہ سندھ اسمبلی کے اطراف کی سڑکیں بند نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو اس کے لیے متبادل مقامات موجود ہیں، جیسے سروس روڈ یا کراچی پریس کلب کے باہر۔ ان کے مطابق مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دینے سے شہر مفلوج ہو جاتا ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ نے زور دیا کہ حکومت احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، مگر قانون کی حدود کے اندر رہ کر۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی جماعت نے زبردستی دکانیں بند کرانے یا عوام کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں ممکنہ احتجاج کے باعث ٹریفک اور امن و امان کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ کے مطابق حکومت کا اولین مقصد شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اور شہر کے نظام کو چلتا رکھنا ہے۔
