سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بچے آئیں اور تحریک چلائیں، لیکن قانون کے اندر رہ کر، رہائی کا دارومدار صرف عمران خان پر ہے۔
اسلام آباد، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر سیاسی تحریک میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں۔ یہ بات انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنے بچوں اور بہنوں کو سیاست میں متحرک دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم ان کی رہائی کا انحصار کسی رشتہ دار یا بیرونی عنصر پر نہیں، بلکہ صرف ان کے اپنے قانونی معاملات پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں اور بیٹے ان کے لیے کوئی سیاسی نجات دہندہ ثابت نہیں ہو سکتے۔
سینیٹر نے خیبرپختونخوا کی حکومت سے متعلق افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں حکومت تبدیل نہیں ہو رہی اور کوئی ایسا منصوبہ بھی زیر غور نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اتحادی ہیں، اور صدر آصف زرداری ایک مدبر اور ذمہ دار ریاستی شخصیت کے طور پر حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، پیپلز پارٹی نے کبھی حکومتی استحکام میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔
چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سوال پر عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے بیرونِ ملک سے چینی منگوانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور جلد نتائج سامنے آئیں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد اور ممکنہ تحریک میں شرکت کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس پر مختلف سیاسی حلقوں سے ردعمل جاری ہے۔ عرفان صدیقی کا بیان اسی تناظر میں سامنے آیا ہے، جو حکومت کے قانونی مؤقف کی وضاحت کرتا ہے۔