چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کی بات صرف “پانچ بڑوں” تک محدود ہے تو اسے مذاکرات سمجھا ہی نہیں جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملاقاتوں کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی تو مذاکرات کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ جن پانچ افراد کی بات کی جا رہی ہے وہ نہ تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسی کسی ملاقات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہیں ہو سکی تو مذاکرات آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت ہر منگل کو اڈیالہ جیل آتی ہے لیکن ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باعث بغیر ملاقات واپس جانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کو جان بوجھ کر متنازع بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کسی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں ہو پا رہی۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ وہ پارٹی رہنماؤں کے بیانات پر عوامی سطح پر تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ “بھیک مانگنے” کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ عدالتوں کے واضح احکامات موجود ہونے کے باوجود اگر ملاقات کی اجازت نہ دی جائے تو یہ صورتحال بھیک مانگنے کے مترادف بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ حالات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
مذاکرات میں اصل رکاوٹ عمران خان خود ہیں، حکومت کی جانب سے کوئی ابہام نہیں: رانا ثنا اللہ
اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سوا پارٹی کا کوئی اور چیئرمین نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے رانا ثنا اللہ کی جانب سے “پانچ بڑوں” کے اکٹھے بیٹھنے کے بیان پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی جو پیشکش سامنے آ رہی ہے اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں قید رکھ کر باقی لوگوں سے بات کی جائے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی بھی مکالمہ یا مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
