قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان 2023 میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے متعلق شکایت پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ نیب کراچی نے کمیشن کے سیکرٹری کو خط لکھ کر امیدواروں کے نتائج، امتحانی ریکارڈ، انٹرویو پینل کی تفصیلات اور کامیاب امیدواروں کی جوائننگ سے متعلق معلومات طلب کرلی ہیں۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر قومی احتساب بیورو نے کارروائی شروع کردی ہے۔ نیب کے مطابق امتحان 2023 سے متعلق موصول ہونے والی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے ریکارڈ طلب کیا گیا ہے تاکہ معاملے کا جائزہ لیا جاسکے۔
نیب کراچی کی جانب سے سندھ پبلک سروس کمیشن کے سیکرٹری کو بھیجے گئے خط میں امتحانی عمل کے مختلف مراحل سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسکریننگ ٹیسٹ اور تحریری امتحان کا ریکارڈ طلب
نیب کراچی نے اپنے خط میں ہدایت کی ہے کہ اسکریننگ ٹیسٹ اور تحریری امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کی تفصیلات الگ الگ فراہم کی جائیں۔
اس کے علاوہ تمام امیدواروں کا مکمل ریکارڈ اور امتحانات کے نتائج بھی طلب کیے گئے ہیں۔ نیب حکام اس معلومات کی مدد سے امتحانی عمل کے مختلف مراحل کا جائزہ لیں گے۔
خط میں سندھ پبلک سروس کمیشن سے امتحانات کے اشتہارات کی نقول اور کامیاب امیدواروں کی ملازمت پر تعیناتی یا جوائننگ سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
نیب کی دوسری سہ ماہی میں 2 ہزار 452 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کا دعویٰ
انٹرویو پینل کے ارکان کی تفصیلات بھی مانگ لیں
نیب نے سندھ پبلک سروس کمیشن سے انٹرویو پینل میں شامل ارکان کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے انٹرویو کے مرحلے سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا۔
امتحانی عمل میں شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق سوالات کے تناظر میں طلب کردہ معلومات تحقیقات کے لیے اہم قرار دی جارہی ہیں۔ تاہم، فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق یہ کارروائی موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے اور کسی بے ضابطگی کے ثابت ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
متعلقہ افسر کو 20 اکتوبر کو پیش ہونے کی ہدایت
نیب کراچی نے اپنے خط میں ہدایت کی ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا متعلقہ گریڈ 18 کا افسر مطلوبہ ریکارڈ کے ہمراہ 20 اکتوبر کو نیب کے سامنے پیش ہو۔
کمیشن کے سیکرٹری کو اس پیشی کو یقینی بنانے اور طلب کردہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیب کی جانب سے طلب کردہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کرنے کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ تاحال سامنے آنے والی تفصیلات میں کسی فرد یا افسر کے خلاف بدعنوانی ثابت ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
