وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی آنکھ سے متعلق غلط پروپیگنڈا کیا گیا، اور محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا تھا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق محسن نقوی نے بتایا کہ علاج کے معاملے میں کسی بھی قیدی کو آئین و قانون کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے ایک معروف آئی سپیشلسٹ کا نام دیا گیا، تاکہ بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ کیا جا سکے، اور سرکاری و پرائیویٹ بہترین ڈاکٹروں نے ان کا جائزہ لیا۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھا، لیکن خط لکھنے سے پہلے ہی وفاقی وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایاز صادق نے وفاق اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ کرایا، اور پی ٹی آئی کی طرف سے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک ہفتے کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ بعد میں ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ ضرورت پڑی تو مدت دو ہفتے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
حکومت نے عمران خان کی صحت سے متعلق کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا: سہیل آفریدی
وزیر داخلہ کے مطابق بیرسٹر گوہر کو اڈیالہ جیل پہنچنے کا کہا گیا، لیکن وہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد نہیں آ سکے۔ بعد میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور سینیٹ نے پی ایم ایس ہسپتال آ کر ڈیڑھ گھنٹے تک ڈاکٹروں سے ملاقات کی، اور تمام سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ وہ علاج سے مطمئن ہیں اور یہ دیگر رہنماؤں کو آگاہ کر دیں گے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ وہ خود ڈاکٹروں کی موجودگی کا جائزہ لے لیں، اور ٹیم نے بیرسٹر گوہر کے آنے تک انتظار کیا۔ آخرکار چیک اپ مکمل ہوا اور سیاسی رہنماؤں نے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج تسلی بخش ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی قیادت اور حکومت کے درمیان بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کو لے کر کشیدگی جاری تھی۔
