لاہور میں تھنک فیسٹ کے آخری دن ’گروتھ اور پاکستان میں غربت کیوں؟‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستان میں غربت کم کرنے اور معیشت مستحکم کرنے کے حوالے سے چند اہم تجاویز پیش کیں۔
تعلیم اور سماجی سرمایہ کاری پر زور
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے جیسے سڑکوں کی تعمیر اچھی بات ہے، لیکن معاشرتی مسائل بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 10 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل کی نسل تعلیم سے محروم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غربت کا خاتمہ اور معاشرتی ترقی تعلیم سے جڑے ہوئے ہیں، اور اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
مالیاتی پالیسی اور دیوالیہ ہونے کے خطرات
سابق وزیرِ خزانہ نے خبردار کیا کہ اگر آئی ایم ایف سے قرض نہ لیا گیا تو ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بچت کی شرح بہت کم ہے، جبکہ زیادہ نوٹ چھاپنے سے افراطِ زر بڑھ رہا ہے، جو عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔ اس لیے انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط اور موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
این ایف سی، لوکل گورنمنٹ اور نئے صوبے
مفتاح اسماعیل نے تجویز دی کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کم کیا جائے اور وسائل کی بہتر تقسیم کے لیے مضبوط لوکل گورنمنٹ یا نئے صوبے بنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان وسائل کی تقسیم کو منصفانہ بنانے اور عوامی خدمات میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تعاون اور عملی اقدامات کی ضرورت
تھنک فیسٹ میں موجود دیگر مقررین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ وفاق اور صوبے مل کر ایسا نظام بنائیں جو عام آدمی کی زندگی میں حقیقی بہتری لے آئے۔ معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے محض انفراسٹرکچر پر انحصار کافی نہیں، بلکہ تعلیم، صحت اور مالیاتی استحکام بھی ضروری ہیں۔
مفتاح اسماعیل کی یہ تجاویز ملک میں غربت اور افراطِ زر کے مسائل کے حل کے لیے ایک متوازن اور عملی حکمتِ عملی کی جانب اشارہ کرتی ہیں، جس میں مالیاتی اصلاحات، تعلیمی سرمایہ کاری اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
