وفاقی وزیر سمیت 32 ارکانِ قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثوں اور مالی گوشواروں کی تفصیلات مقررہ وقت میں جمع نہ کرانے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے وفاقی وزیر سمیت 32 ارکانِ قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

latest urdu news

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتخابی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق صرف قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی سطح پر بھی بڑی تعداد میں ارکان اس کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 50 جبکہ سندھ اسمبلی کے 33 ارکان کی رکنیت بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر معطل کر دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک متعلقہ ارکان اپنے گوشوارے جمع نہیں کرواتے، اس وقت تک وہ ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

معطل ہونے والے ارکانِ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، سید علی موسیٰ گیلانی اور سید عبدالقادر گیلانی کے نام بھی شامل ہیں۔ ان نمایاں شخصیات کی رکنیت معطل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر خاصی بحث شروع ہو گئی ہے۔

سینیٹ میں ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی کے 3 سینیٹرز کی رکنیت معطل

اسی طرح پنجاب اسمبلی کے جن اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے، ان میں رانا سکندر حیات، عدنان ڈوگر اور عامر حیات ہراج شامل ہیں، جبکہ سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر سعید غنی بھی ان اراکین میں شامل ہیں جن کی رکنیت الیکشن کمیشن نے معطل کی ہے۔

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا آئینی اور قانونی تقاضا ہے، جس کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیشن نے تمام معطل اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروائیں تاکہ ان کی رکنیت بحال کرنے پر غور کیا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن کی یہ کارروائی شفافیت اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں منتخب نمائندوں کو اپنی قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے واضح پیغام ملے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter