پی ٹی آئی نے بانی پارٹی عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے کو سینیٹ میں دوبارہ اٹھایا، جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کے درمیان ہے اور حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں۔
سینیٹ اجلاس، جس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی، میں پی ٹی آئی کی رہنما فلک ناز چترالی نے بتایا کہ دو ماہ سے کسی کو بھی بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی گئی۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقاتیں کروائی نہیں جا رہی ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے پی ٹی آئی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے سینیٹ میں اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملاقاتوں کا معاملہ مکمل طور پر عدالتی اور جیل حکام کے اختیار میں ہے اور وفاقی حکومت کے پاس اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
دریں اثنا، سینیٹ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے نومنتخب سینیٹر عابد شیر علی نے حلف اٹھایا، اور جی سیون گیس لیکیج دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور ملاقاتیں ایک حساس معاملہ بن چکی ہیں، جس میں عدالتی احکام کے باوجود عمل درآمد کی صورتحال زیر بحث ہے۔
