وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا جوائنٹ وینچر تھے اور عمران خان اکیلے یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے روز فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو ایک منظم منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ تنہا اس نوعیت کے واقعات کو انجام دے سکتے، اس کے پیچھے مشترکہ منصوبہ بندی شامل تھی۔
وزیر دفاع نے اپنی گفتگو میں ماضی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک موقع پر بلا کر نواز شریف کے ایک بیان کی مذمت کرنے کا کہا گیا۔ خواجہ آصف کے مطابق انہوں نے واضح جواب دیا کہ نواز شریف ان کے لیڈر ہیں اور وہ ان کے بیان کی مذمت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر وہ نواز شریف کے بیان کی مذمت کر دیں تو ان کے نیب کے مقدمات ختم کر دیے جائیں گے، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ انہیں کسی صورت قابل قبول نہیں۔
فیض حمید کی سزا ابتداء ہے، 9 مئی کے دیگر کیسز بھی زیر سماعت: فیصل واوڈا
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر بات ہونی چاہیے، وہ عدلیہ ہے جس نے نواز شریف سے اپیل کا حق تک چھین لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات ملکی سیاست اور نظام انصاف پر گہرے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ 9 مئی کے واقعات محض ایک فرد کا عمل نہیں تھے بلکہ یہ ایک مشترکہ منصوبہ تھا جس کے نتائج آج بھی سامنے آ رہے ہیں۔
