ہمیں آزمانے کی کوشش نہ کی جائے، ہم بڑی آزمائش بن سکتے ہیں: مولانا فضل الرحمان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں آزمانے کی کوشش کی گئی تو وہ ایک بڑی آزمائش ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور دینی طبقہ کسی تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم اپنے اصولوں، نظریات اور عوامی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

latest urdu news

راولپنڈی میں منعقدہ توحید و سنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ حکمرانوں کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایمان کی نعمت کی حفاظت کریں اور عدل و انصاف کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیاوی اقتدار عارضی ہے، اصل جواب دہی قیامت کے دن ہونی ہے جہاں عدل کے ترازو قائم کیے جائیں گے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے دینی طبقے اور علماء کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علماء کسی وقتی تحریک یا نعرے کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے پیچھے برصغیر کی کم از کم اڑھائی سو سالہ جدوجہد، قربانی اور مزاحمت کی تاریخ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ صرف تقاریر اور دعوؤں پر مشتمل نہیں بلکہ عملی جدوجہد، صبر اور استقامت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کام پر توجہ دی جائے اور خلوص کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی جائے تو کوئی بھی قوت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔

سربراہ جے یو آئی نے حکمرانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان اداروں اور گروہوں کی حالت پر بھی نظر ڈالیں جو اقتدار کے قریب ہو کر اپنی شناخت اور وقار کھو بیٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور ملکی سیاست میں بات چیت کو ہی مسائل کا حل سمجھا ہے۔

الیکشن شفاف ہوتے تو مہنگائی اور استحصالی نظام جنم نہ لیتا: مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین سازی جیسے اہم اور حساس مراحل بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی مکمل کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی جماعت جمہوری اقدار اور سیاسی شعور پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جے یو آئی آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ کسی کو دھمکی نہیں دے رہے بلکہ حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ اگر دینی طبقے، عوام اور ان کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بہتر یہی ہے کہ حکمران ہوش مندی، تدبر اور انصاف کے ساتھ فیصلے کریں تاکہ ملک میں استحکام اور ہم آہنگی برقرار رہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter