لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عوامی فلاح و بہبود کے ایک اہم اقدام کے طور پر بلا معاوضہ سرکاری ’میت منتقلی سروس‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس سروس کا مقصد ایسے خاندانوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو اپنے پیاروں کی وفات کے بعد میت کی منتقلی کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
سروس کا آغاز اور ابتدائی شہر
اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں سروس شروع کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان شہروں کے لیے مختص گاڑیوں کی چابیاں ڈرائیورز کے حوالے کیں، جس کے ساتھ ہی سروس کا عملی آغاز بھی ہو گیا۔ حکومتی حکام کے مطابق مستقبل میں اس سہولت کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہو سکیں۔
عوامی مشکلات کے حل کی کوشش
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی پیارے کی جدائی ایک انتہائی تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے، اور ایسے وقت میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے ساتھ کھڑی ہو۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض نجی ٹرانسپورٹرز مریض کی وفات کے بعد میت کی منتقلی کے لیے منہ مانگا کرایہ وصول کرتے ہیں، جو پہلے ہی غمزدہ خاندانوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔
"پاکستان میں پہلی بار سرکاری سطح پر باقاعدہ میت منتقلی سروس، عوام خدمت میں پنجاب کا نیا اعزاز”
⭕: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پاکستان کی پہلی سرکاری ”میت منتقلی سروس“کا آغاز کر دیا
⭕: میت منتقلی سروس کی پہلے فیز میں لاہور،ملتان اور روالپنڈی کےسرکاری ہسپتالوں سے تکریم کے ساتھ… pic.twitter.com/hotEnL5OzA
— PMLN (@pmln_org) April 13, 2026
انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ اس سرکاری سروس کے تحت میت کی منتقلی مکمل طور پر مفت ہوگی، اور اگر کوئی شہری رضاکارانہ طور پر بھی ادائیگی کرنا چاہے تو ریسکیو اہلکار اسے ہرگز قبول نہ کریں۔
فلاحی ریاست کی جانب ایک قدم
یہ اقدام پنجاب حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے وژن کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بنیادی سہولیات کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے منصوبے نہ صرف معاشرتی ہمدردی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ حکومتی اداروں پر عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
پاکستان میں شمسی توانائی 8000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، وزیر خزانہ
مستقبل میں توسیع کا امکان
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس سروس کو عوامی سطح پر مثبت ردعمل ملتا ہے تو اسے بتدریج پورے صوبے میں پھیلایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور رسپانس ٹائم کم کرنے کے لیے بھی اقدامات زیر غور ہیں۔
مجموعی طور پر، ’میت منتقلی سروس‘ ایک ایسا اقدام ہے جو مشکل وقت میں شہریوں کے بوجھ کو کم کرنے اور انہیں سہارا دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ فلاحی حکمرانی کی ایک عملی مثال بھی پیش کرتا ہے۔
