طالبان کا لڑکیوں کو تعلیم سے روکنا اسلام کے پیغام کے خلاف ہے:ملالہ یوسفزئی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور تمام ممالک سے طالبان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں ملالہ نے کہا کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ طالبان لڑکیوں اور خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔

latest urdu news

ملالہ یوسفزئی نے واضح کیا کہ طالبان لڑکیوں سے تعلیم کا حق چھین رہے ہیں اور اسکول جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تاہم افغان لڑکیاں ہمت نہیں ہار رہی ہیں اور اب بھی خفیہ اسکولوں اور آن لائن ذرائع سے تعلیم حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ملالہ نے کہا کہ طالبان خواتین کو گھر سے باہر جانے اور کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، جس سے بچوں اور نوجوانوں کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔

ملالہ نے زور دے کر کہا کہ طالبان کا یہ اقدام اسلام کے حقیقی پیغام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور کوئی بھی بچی دینی نام پر تعلیم سے محروم نہیں کی جا سکتی۔ ملالہ نے طالبان سے کہا کہ وہ اسلام کے اس پہلو کو سمجھیں اور علم حاصل کرنے کو دین کا حصہ جانیں۔

عبادت گاہیں بھی غیر محفوظ ہونا لمحۂ فکریہ ہے، ملالہ یوسفزئی

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحت آگے آئیں اور طالبان کی غیر اسلامی پالیسیوں کی مخالفت کریں۔ ملالہ نے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کی بھی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طالبان کے اس اقدام کی مذمت کرنی چاہیے۔

ملالہ یوسفزئی نے آخر میں کہا کہ وہ افغان لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے تعلیمی پروجیکٹس کو مکمل سپورٹ فراہم کر رہی ہیں تاکہ انہیں تعلیم کے حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter