اسلام آباد میں چینی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کر کے وزیراعظم کو پیش کر دی ہیں، جن میں اس صنعت کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور مارکیٹ کو زیادہ آزاد بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان سفارشات کا بنیادی مقصد چینی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینا اور قیمتوں کے نظام کو مارکیٹ کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں برآمدات بڑھانے کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
کمیٹی نے کسانوں کو اپنی فصل کی فروخت سے متعلق مکمل آزادی دینے پر زور دیا ہے، تاکہ وہ بہتر قیمت حاصل کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گنے کو مخصوص شوگر ملوں کو فروخت کرنے کی پابندی ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
سفارشات میں شوگر ملز کو ایتھنول اور دیگر مصنوعات تیار کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے نہ صرف صنعت کو وسعت ملے گی بلکہ ایندھن کی درآمدی لاگت میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایتھنول بلینڈنگ کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
مزید برآں، کسانوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانے، شفافیت بڑھانے اور مارکیٹ کے نظام کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی سفارشات کا حصہ ہیں۔ تحقیق، پیداوار اور مارکیٹ نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
ان اصلاحات کے تحت شوگر ملز کو قیمتوں کے تعین میں زیادہ آزادی دینے کی بھی بات کی گئی ہے، جس سے حکومت کے کنٹرول میں کمی اور مارکیٹ کے کردار میں اضافہ متوقع ہے۔
