اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں باضابطہ طور پر اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس حوالے سے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے بعد محمود خان اچکزئی نے قائدِ حزبِ اختلاف کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق محمود خان اچکزئی کی تقرری قومی اسمبلی کے بزنس رولز کے تحت کی گئی ہے، جو 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی۔ نوٹیفکیشن کے اجرا کے ساتھ ہی ایوانِ زیریں میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ باضابطہ طور پر پُر ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا منصب 9 مئی کے مقدمے میں عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہو گیا تھا، جس کے باعث اپوزیشن اتحاد کو نئے قائدِ حزبِ اختلاف کے انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس سلسلے میں محمود خان اچکزئی واحد امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے۔
محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفیکیشن آج جاری ہو گا: رانا ثنااللہ
پارلیمانی ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا فیصلہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مشاورت سے کیا گیا تھا۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے متفقہ طور پر ان کے نام کی حمایت کی، جس کے بعد تقرری کے تمام آئینی اور پارلیمانی تقاضے مکمل کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق محمود خان اچکزئی کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے کردار کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کی سیاسی بصیرت اور طویل پارلیمانی تجربے کو اپوزیشن کی مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے اور قانون سازی کے عمل میں بھی اس تقرری کے اثرات نمایاں ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
