قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما محمود خان اچکزئی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور پارٹی بانی عمران خان کے صحت کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے۔ خط میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ ذاتی طور پر منتخب کردہ ڈاکٹرز کے ذریعے کرایا جائے۔
محمود اچکزئی نے اپنے خط میں زور دیا کہ عمران خان کی صحت بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے اور اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کا معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے تاکہ ان کی صحت کی مکمل اور درست رپورٹ تیار ہو سکے۔
خط میں طبی معائنے کے لیے ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر مظہر اسحاق اور ڈاکٹر عامر اعوان کے نام بھی تجویز کیے گئے ہیں، جو عمران خان کے ذاتی معالج کے طور پر منتخب کیے گئے ہیں۔ محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ قید میں رہتے ہوئے بھی سابق وزیراعظم کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کوئی رعایت ناقابل قبول ہوگی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ خط عمران خان کی صحت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش اور سیاسی دباؤ کا مظہر بھی ہے۔ اپوزیشن نے گزشتہ روز بھی اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم کی طبی سہولیات کی ناکافی فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
عمران خان کی صحت سے متعلق پھیلائی گئی باتیں بے بنیاد ہیں، محمود اچکزئی کا مؤقف
ذرائع کے مطابق خط پہنچنے کے بعد حکومت نے معاملے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا اعلان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ معاملہ نہ صرف سیاسی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ انسانی حقوق کے تناظر میں بھی اسے انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سابق وزیراعظم کی صحت اور جیل میں ان کی نگہداشت کے مسائل عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
