الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا جاری کردہ شیڈول واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اس فیصلے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے 10 جنوری کو اسلام آباد کے لیے بلدیاتی حکومت ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت دارالحکومت میں مقامی حکومت کے ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد موجودہ بلدیاتی نظام میں بنیادی نوعیت کی ترامیم سامنے آئی ہیں، جن کے باعث پہلے سے جاری انتخابی شیڈول پر عمل درآمد ممکن نہیں رہا۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے تحت نہ صرف مقامی حکومتوں کے اسٹرکچر میں تبدیلی کی گئی ہے بلکہ بلدیاتی انتخابات کے طریقۂ کار یعنی موڈ آف الیکشن میں بھی رد و بدل کیا گیا ہے۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا پورا پروگرام واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے 15 فروری کی تاریخ کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت انتخابی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ تاہم حالیہ حکومتی ترمیم کے بعد اس شیڈول کو مؤثر طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے بھی بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئی قانونی صورتحال کے مطابق آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے بعد تازہ شیڈول جاری کیا جائے گا، تاکہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق شفاف انداز میں کرائے جا سکیں۔
