پنجاب بار کونسل نے سٹی کورٹ کراچی میں پیشی کے دوران پیشہ ورانہ ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق کا وکالت لائسنس معطل کر دیا ہے۔
اس معاملے کو مزید کارروائی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے تاکہ لائسنس کی مستقل منسوخی پر فیصلہ کیا جا سکے۔
بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے مطابق یہ کارروائی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی، جس میں دیکھا گیا کہ عدالتی ہڑتال کے دوران میاں علی اشفاق سٹی کورٹ کراچی میں پیش ہوئے۔ ہڑتال کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونا ممنوع تھا، اور انہوں نے نجی گارڈز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کر ضابطے کی خلاف ورزی کی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید بانی کے سیاسی مشیر رہے: عطا تارڑ
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ میاں علی اشفاق کے عمل سے وکلا برادری کے وقار اور اتحاد کو نقصان پہنچا، اور ان کے بیانات کو پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی قرار دیا گیا۔ پنجاب بار کونسل نے اس رویے کو پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976 کی دفعات 134 اور 175-A کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فوری طور پر لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب میاں علی اشفاق، سٹی کورٹ کراچی میں مشہور ٹک ٹاکر رجب بٹ کے خلاف دائر کیس میں پیش ہوئے تھے۔ دوران پیشی، وکلا کی جانب سے رجب بٹ پر تشدد کا واقعہ بھی سامنے آیا، جس نے عدالتی کارروائی اور وکلا برادری کی ساکھ کو مزید متاثر کیا۔
اب میاں علی اشفاق کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے کیس ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے زیر غور ہوگا، اور اس فیصلے سے پاکستانی قانونی حلقوں میں وکلا کی پیشہ ورانہ اخلاقیات اور عدالتوں کے وقار کے حوالے سے اہم بحث متوقع ہے۔
