وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا، ان کے ٹرائل کا قانونی فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام آئین اور قانون کے دائرے میں ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا عوامی جذبات کی بنیاد پر اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ ملک میں قانون کے نظام کو پہلے سے کافی بہتر بنایا گیا ہے اور اختلاف رائے کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی خوبی ہے۔ انہوں نے آئینی ترمیم پر تنقید کے حوالے سے کہا کہ 22 کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے والی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، اور یہ اختیار آئین میں واضح طور پر درج ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے ججز کے ٹرانسفر کے معاملے پر کہا کہ صدر اور چیف جسٹس کے پاس اس کا اختیار تھا، لیکن موجودہ طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ جوڈیشل کمیشن بہتر انداز میں ججز کی تعیناتی اور ٹرانسفر کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تمام صوبوں کے شہریوں کو اچھے ججز تک رسائی حاصل ہونی چاہیے، اور یہ نظام وقت کے ساتھ مزید شفاف ہو جائے گا۔
پارٹی میں مشاورت کا عمل موجود ہے، مگر فیصلہ کن اختیار نواز شریف کے پاس ہے: اعظم نذیر تارڑ
وزیر قانون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئین کے تحت سویلین کا بھی ملٹری ٹرائل ممکن ہے، اور جب کوئی شخص آئینی یا قانونی “ریڈ لائن” کراس کرتا ہے تو اس کے لیے قانون میں واضح شقیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، "جب بات نظام قانون اور آئین کے تحت چلانے کی ہو تو دل کو سخت کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ ملک اور عوام کے مفاد میں ضروری ہے۔”
ان کے مطابق آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی اور فوجی عدالت میں ٹرائل آئینی اور قانونی دائرے میں ہے اور اس سے قانون کی بالادستی اور ملک میں امن و امان قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔
