لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں 21 سالہ طالبہ کے خودکشی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر گھریلو ناچاقی کے امکان کا اظہار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق لڑکی نے دوسری منزل سے چھلانگ لگانے سے پہلے تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کی اور اس کے بعد آخری کال ڈیلیٹ کر دی۔ واقعے سے ایک روز قبل لڑکی کے بھائیوں نے اس کا پرانا موبائل خراب ہونے کے بعد نیا موبائل فراہم کیا تھا۔ لڑکی کے دونوں بھائیوں کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق طالبہ یونیورسٹی میں ہونے والے حالیہ ٹیسٹ میں 35 میں سے 18 نمبر حاصل کرنے پر غیر مطمئن تھی اور اس معاملے پر والد اور بھائیوں سے بات کی تھی۔ پولیس نے تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر کے تحقیقات میں استعمال کی ہیں تاکہ واقعے کے حالات اور پس منظر کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے بیانات اور شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا اور حتمی وجہ جلد طے کر لی جائے گی۔ اس وقت تک طالبہ کے لواحقین نے قانونی کارروائی کے لیے کوئی درخواست نہیں دی ہے۔
