لاہور میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا: لیسکو شارٹ فال 850 میگاواٹ سے تجاوز

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھنے کے باعث لیسکو (LESCO) کا شارٹ فال 850 میگاواٹ سے بھی تجاوز کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ گیا ہے۔ بجلی کی قلت کے ساتھ ساتھ گیس بحران نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

latest urdu news

بجلی کی طلب اور شارٹ فال کی صورتحال

ذرائع این ٹی ڈی سی (NTDC) کے مطابق لیسکو اس وقت اپنی تقریباً 2700 میگاواٹ کی مجموعی طلب پوری کرنے میں ناکام ہے۔ شارٹ فال بڑھنے کے باعث بجلی کی فراہمی میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر گھریلو اور صنعتی صارفین پر پڑ رہا ہے۔

نتیجتاً، لاہور کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ

ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں تقریباً 2 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ دورانیہ 4 سے 6 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ بعض علاقوں میں بجلی کی بندش وقفے وقفے سے ہونے کے باعث صورتحال مزید پریشان کن ہو گئی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اگر بجلی کی طلب میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

گیس بحران اور پاور پلانٹس کی بندش

ادھر توانائی کے دوسرے شعبے میں بھی مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ سوئی ناردرن کے ذرائع کے مطابق درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی گیس کی قلت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث شہری ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

مہنگی بجلی نے صنعت کا پہیہ جام کر دیا: اپٹما

ذرائع این ٹی ڈی سی نے مزید بتایا کہ آر ایل این جی (RLNG) کی عدم دستیابی کے باعث بلوکی پاور پلانٹ بھی بند ہو گیا ہے۔ یہ پلانٹ تقریباً 1223 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اور اس کی بندش نے مجموعی بجلی کی فراہمی پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

مجموعی صورتحال اور ممکنہ اثرات

توانائی کے ماہرین کے مطابق بجلی اور گیس کی بیک وقت کمی ملک کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور میں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ صنعتی پیداوار، کاروباری سرگرمیاں اور گھریلو زندگی پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آئندہ دنوں میں نہ صرف لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter