بغیر اجازت دوسری شادی پر حق مہر فوری ادا کرنا ہوگی: لاہور ہائیکورٹ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے کے معاملے پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر پہلی بیوی کو حق مہر کی رقم فوری ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں مہر کی ادائیگی کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔

latest urdu news

یہ فیصلہ جسٹس عابد حسین چٹھہ نے مہناز سلیم کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں جاری کیا۔ کیس حق مہر کی رقم، نان نفقہ (خرچ) اور جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق تنازعات پر مبنی تھا۔ عدالت نے درخواست گزار خاتون کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کر دی۔

عدالت نے شوہر کو حکم دیا کہ وہ پہلی بیوی کو 10 لاکھ روپے حق مہر فوری ادا کرے۔ مزید برآں شوہر کو طلاق کے مؤثر ہونے تک 15 ہزار روپے ماہانہ خرچ، سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ ادا کرنے کا بھی پابند قرار دیا گیا۔ عدالت نے جہیز کے سامان کی ویلیو کے مطابق رقم کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا۔

ریکارڈ کے مطابق شوہر نے نکاح کے وقت اپنی دوسری شادی کو چھپایا اور بعد ازاں مزید شادی بھی کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دوسری شادی کو مخفی رکھنا ثابت شدہ حقیقت ہے اور شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ بیوی نے بلاجواز گھر چھوڑا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر بیوی کے گھر چھوڑنے کا قانونی جواز موجود ہو تو شوہر طلاق کے مؤثر ہونے تک اس کا خرچ دینے کا پابند ہوتا ہے۔

40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی، 60 فیصد مخالف:گیلپ پاکستان کا سروے

عدالت نے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ زبانی طلاق کے بعد شوہر صرف عدت کے عرصے تک خرچ دینے کا ذمہ دار ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب تک طلاق قانونی تقاضے پورے نہ کرے، شادی برقرار سمجھی جائے گی اور بیوی اپنے مالی حقوق کی حق دار رہے گی۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ قانونی شق بیویوں کے مالی حقوق کے تحفظ اور من مانی شادیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ہے۔ عام طور پر حق مہر شادی کے اختتام پر ادا کیا جاتا ہے، تاہم اگر شوہر بیوی کی اجازت کے بغیر نئی شادی کرے تو وہ پہلی بیوی کو مہر فوری ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ فیصلہ خاندانی قوانین کے تناظر میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter