خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر میں بسنے والی تمام اقوام کا ایک بڑا جرگہ بلانے کا اعلان کر دیا ہے، جو اتوار کو جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس جرگے کا مقصد خیبر اور خصوصاً وادی تیراہ کی موجودہ صورتحال، عوامی مسائل اور امن و امان سے متعلق معاملات پر کھل کر مشاورت کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے فیصلوں نے خطے کو ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
وادی تیراہ سے متعلق ایک ویڈیو بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ماضی میں منتخب جمہوری حکومت کو ہٹایا گیا، جس کے بعد حالات تیزی سے بگڑتے چلے گئے۔ ان کے مطابق جب دہشت گرد عناصر دوبارہ منظم ہونے لگے تو اس وقت قبائلی عمائدین اور سیاسی قیادت نے جرگوں کے ذریعے مسئلے کی نشاندہی کی، تاہم اس وقت کی وفاقی حکومت نے ان خدشات کو محض جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے کر نظرانداز کیا۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں بدامنی واپس لوٹ آئی بلکہ ملکی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں اور نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں، جو کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا ہے، جس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مشاورت اور باہمی اتفاق سے نکالا جائے۔ ان کے مطابق تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ مستقل امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوامی رائے اور قبائلی روایات کو مدنظر رکھا جائے۔
بند کمروں کی سیاست سے عوام مایوس ہو چکے ہیں: سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ لوگوں کو شدید برفباری کے موسم میں اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر انسانی اقدام ہے جس سے عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کو دو بجے جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں ہونے والا جرگہ پورے خیبر کے عوام کی آواز بنے گا۔
آخر میں سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں تاکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیح عوام کا تحفظ، عزت کے ساتھ بحالی اور خیبر میں دیرپا امن کا قیام ہے۔
