ضرورت پڑی تو افغانستان میں فضائی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے: خواجہ آصف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کو وہ طالبان اور بھارت کی مبینہ پراکسی جنگ کا نتیجہ سمجھتے ہیں، اور اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو افغانستان کے اندر فضائی کارروائی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ گفتگو ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کی۔

latest urdu news

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس افغانستان میں کارروائی کا آپشن ہمیشہ موجود رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کابل حکومت امن کی ضمانت فراہم کرے تو کشیدگی کی کوئی وجہ نہیں، تاہم اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی تو ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں، بشمول تحریک طالبان پاکستان اور داعش، افغانستان میں موجود ہیں اور ان کی سرگرمیاں کابل کی لاعلمی میں ممکن نہیں۔

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ دہلی، کابل اور بعض دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔ ان کے بقول اگر یہ عناصر افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی افغان حکام پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے استنبول، دوحہ اور کابل میں مختلف ملاقاتیں ہوئیں، مگر ان کا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپوں میں پاکستان نے برتری حاصل کی۔ ان کے مطابق پاکستان کی فضائیہ نے اپنی حدود کی خلاف ورزی کی ہر کوشش ناکام بنائی اور بھارت کو سفارتی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان کو پرامن رہنے کا فیصلہ کرنا ہوگا، خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنا اولین ترجیح:وزیراعظم

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کوئی رابطہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی اور کابل کے درمیان قریبی تعلقات خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پاکستانی عوام کے دل کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر فلسطینی مؤقف کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھی فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس امن مشنز میں شرکت کا وسیع تجربہ موجود ہے اور وہ عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter