میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کریم آباد انڈر پاس کے تعمیراتی کام میں تاخیر پر عوام سے معذرت کر لی ہے۔
وہ سٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔
تفصیلات کے مطابق میئر کراچی نے کہا کہ کریم آباد انڈر پاس کے کام میں تاخیر ضرور ہوئی ہے، جس پر وہ شہریوں سے دلی معذرت کرتے ہیں، تاہم اب اس منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی کام کر کے دکھائیں۔
کراچی میں مین ہول سے ملنے والی چار لاشوں کا ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل
روزنامہ جنگ کے مطابق مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 میں پیپلز پارٹی کے منشور کے تحت ایک اور اہم منصوبہ مکمل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ روایتی اسٹریٹ لائٹس کو سولر پاور پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
میئر کراچی نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں شارع فیصل سے ایئرپورٹ تک سٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شارع ایران اور شارع غالب پر بھی سولر پاور اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ تک تمام لائٹس اب مکمل طور پر سولر پاور پر چل رہی ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسٹریٹ لائٹس خراب ہونے کی صورت میں کنٹریکٹر کی تلاش ایک مسئلہ بن جاتا تھا، تاہم اب معاہدے میں واضح طور پر شامل کیا گیا ہے کہ سولر لائٹس نصب کرنے والی کمپنی ہی آئندہ پانچ سال تک ان کی دیکھ بھال اور گارنٹی کی ذمہ دار ہو گی۔
میئر کراچی نے مزید بتایا کہ سولر پاور اسٹریٹ لائٹس کے ذریعے کے ایم سی سالانہ تقریباً اڑھائی کروڑ روپے کی بچت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود اب سٹریٹ لائٹس بند نہیں ہوں گی، جس سے شہر میں روشنی، سیکیورٹی اور ٹریفک کے نظام میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے منصوبے کراچی کو جدید، توانائی کے لحاظ سے خود کفیل اور بہتر شہر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
