کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں سانحے کے بعد ملبہ اٹھانے کا عمل تاحال جاری ہے، جہاں آج سرچ اور کلیئرنس آپریشن کے دوران ڈیڑھ کلو سونا برآمد ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ سونا عمارت کے ایک ایسے حصے سے ملا جہاں جیولرز کی دکان قائم تھی، جس کے بعد شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے سونا دکان کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔
ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ ملبہ ہٹانے کے دوران ریسکیو ٹیموں کو ڈیڑھ کلو سونا ملا۔ ان کے مطابق جس مقام سے یہ سونا برآمد ہوا وہاں زیورات کی دکان موجود تھی، اس لیے تصدیق کے بعد سارا سونا متعلقہ دکان کے مالک کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو اور انتظامی کارروائیوں میں دیانت داری اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب انسانی جانوں کے ضیاع سے متعلق افسوسناک تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق اب تک 71 انسانی باقیات اور لاشوں کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے 16 افراد کی شناخت مکمل ہو گئی ہے، تاہم کئی لاشیں شدید طور پر جل جانے کے باعث شناخت کے قابل نہیں رہیں، جس سے ڈی این اے کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر سمیعہ سید کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مزید تفصیلات دینا قبل از وقت ہے، کیونکہ شناخت کا عمل نہایت حساس اور وقت طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے اور تمام ممکنہ سائنسی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
گل پلازہ میں بجلی بند کرنے کا فیصلہ بچاؤ کے لیے تھا: صدر تاجر ایسوسی ایشن
ادھر صدر گل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی تنویر پاستا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سانحے کے نتیجے میں 10 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق کئی دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور بعض شہدا کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں، جس پر لواحقین شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
ریسکیو آپریشن سے متعلق ڈی جی ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ عمارت کا تقریباً 10 سے 15 فیصد حصہ ایسا ہے جہاں اب تک ٹیمیں رسائی حاصل نہیں کر سکی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج ان حصوں میں بھی سرچ آپریشن کیا جائے گا تاکہ کسی ممکنہ پھنسے ہوئے شخص یا باقیات کو تلاش کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ملبہ اٹھانے، سرچ آپریشن اور شناخت کے تمام مراحل مکمل ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ اس افسوسناک سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی متوازی طور پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
