کراچی: گل پلازہ میں آگ، 6 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد لاپتہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ میں ہفتے کی رات تقریباً 10:15 بجے آگ لگ گئی، جو تیزی سے عمارت کی گراؤنڈ سے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک 6 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 60 افراد لاپتہ ہیں۔ آگ کی شدت اور عمارت کی پرانی حالت کے باعث ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے کام میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

latest urdu news

آگ لگنے کا سبب اور نقصان

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ کی شروعات ایک دکان سے ہوئی، جو مصنوعی پھولوں کی دکان بتائی گئی ہے۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت کے کئی حصے گر گئے اور پلرز کمزور ہو گئے۔ چیف فائرآفیسر کا کہنا ہے کہ ایک زوردار دھماکا ہوا، جو گیس لیکج کے باعث ہوا، جس سے آگ مزید پھیل گئی۔ عمارت میں استعمال ہونے والے آتش گیر مواد نے بھی آگ کی شدت میں اضافہ کیا۔

مارکیٹ حکام کے مطابق تین منزلہ عمارت میں تقریباً 1200 دکانیں ہیں، جن میں موجود مالیت کروڑوں روپے میں تھی۔ گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں۔ متاثرہ دکانداروں نے بتایا کہ کچھ افراد عمارت سے چھلانگ لگا کر بچنے میں کامیاب ہوئے جبکہ دیگر مسجد کے دروازے توڑ کر باہر نکلے۔

ریسکیو اور فائر فائٹنگ کی صورتحال

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تقریباً 20 فائر ٹینڈرز اور 4 اسنارکلز کی مدد سے آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کی بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی موقع پر موجود ہیں۔ ڈیڑھ سو سے زائد فائر فائٹرز کام کر رہے ہیں، لیکن عمارت کے اندر جانے میں خطرات کی وجہ سے سرچ آپریشن تب تک ممکن نہیں جب تک آگ پر مکمل قابو نہ پایا جائے۔

کراچی میں آگ پر قابو نہ پاسکنے پر اندرون سندھ کے حالات پر سوال: مفتاح اسماعیل

متاثرین اور حکومتی ردعمل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور کہا کہ متاثرین کو جلد ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی اجازت بغیر کسی اسٹڈی کے دی گئی، جس کی وجہ سے یہ نقصان ہوا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے اور شفاف انداز میں نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔

گل پلازہ کے صدر تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے علاوہ کسی اور اعلیٰ اہلکار نے موقع پر رابطہ نہیں کیا، اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

افسوسناک پہلو اور یادگار قربانیاں

آگ کے دوران ایک فائر فائٹر فرقان جان کی بازی ہار گئے، جن کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کی گئی۔ ریسکیو حکام اور شہریوں نے ان کی قربانی کو یادگار قرار دیا۔

اس سانحے نے ایک بار پھر کراچی میں کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کی اہمیت اجاگر کی ہے اور حکومت کی ذمہ داری کو بڑھا دیا ہے کہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے پالیسی، نگرانی اور سخت اقدامات کیے جائیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter