ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے دبئی جانے والی دو خواتین کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں سے ایک خاتون نے غیر اخلاقی نیٹ ورک سے تعلق کا اعتراف بھی کیا۔ کارروائی کے دوران خواتین کو امیگریشن کلیئرنس کے وقت آف لوڈ کیا گیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار شدہ خواتین نے ابتدائی تفتیش میں سیاحتی ویزے کی آڑ میں ملازمت کے لیے جانے کا انکشاف کیا۔ تاہم فیصل آباد کی رہائشی ایک خاتون نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ غیر اخلاقی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک تھی، جس کے بعد کیس کی حساسیت اور بڑھ گئی۔
ایف آئی اے نے اس کے علاوہ مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا ہے جو خواتین کے سفری انتظامات کر رہا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزمان کے متعدد موبائل فونز برآمد ہوئے، جن میں واٹس ایپ چیٹس اور وائس نوٹس بھی شامل ہیں، جو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی مزید تفصیلات فراہم کر رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے اس کیس میں گرفتار تمام ملزمان کو اینٹی ہیومن ٹریفک سرکل کے حوالے کر دیا گیا ہے، تاکہ قانونی کارروائی اور مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ ایف آئی اے کی کارروائیاں ملک میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی سطح پر انسانی اسمگلنگ کے خطرات کو کم کرنے اور متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ ایف آئی اے عوام کو بھی اس حوالے سے خبردار کر رہی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سفر یا غیر قانونی نیٹ ورک سے دور رہیں اور حکام سے تعاون کریں۔
