جنید اکبر کا پی ٹی آئی کی نشست چھوڑنے کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخوا کے صدر اور رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر نے پارٹی کے اندرونی پارلیمانی نظام پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی نشست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا یہ اعلان پارٹی کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں بھی اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

ذرائع کے مطابق جنید اکبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کا موقع نہ ملنے پر شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ایک سخت پیغام شیئر کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ آج کے بعد نہ کسی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ ہوں گے، نہ پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے کام کریں گے اور نہ ہی چیف وہپ کی ہدایات کو تسلیم کریں گے۔

جنید اکبر نے شکوہ کیا کہ انہیں گزشتہ رمضان کے بعد اور بجٹ اجلاس کے دوران ہی فلور پر بات کرنے کا موقع دیا گیا، جبکہ روزانہ چند مخصوص افراد کو مسلسل اظہارِ خیال کی اجازت ملتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں بولنے کے مواقع کی تقسیم میں شفافیت نہیں اور یہ طرزِ عمل منتخب نمائندوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ چیف وہپ آخر کس اختیار کے تحت روزانہ فیصلے کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کون بولے گا اور کون نہیں۔ جنید اکبر کے مطابق پارٹی کے اندر جمہوری رویوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جو ایک سیاسی جماعت کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ہمارے ساتھ بیٹھیں، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہے: جنید اکبر

مزید برآں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے اندر ان کی شرافت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، ان کے اپنے ہی لوگ درباری کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا شخص سامنے آئے جو کھل کر اور سخت لہجے میں بات کرے۔ جنید اکبر نے اس رویے کو پارٹی کے نظریات کے منافی قرار دیا۔

اپنے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے جنید اکبر نے اعلان کیا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کو باقاعدہ خط لکھیں گے، جس میں درخواست کریں گے کہ انہیں پی ٹی آئی سے الگ نشست دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بات ایوان میں آزادی کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں الگ حیثیت میں بیٹھنا کیوں نہ پڑے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جنید اکبر کا یہ اقدام نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ آیا پارٹی مستقبل میں اپنے اندرونی نظم و ضبط اور پارلیمانی حکمتِ عملی کو بہتر بنا پائے گی یا نہیں۔ اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جو اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter