امیر جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔ اس موقع پر وہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے روزہ رکھیں گے، تراویح پڑھیں گے اور عوام کے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کریں گے۔

latest urdu news

کراچی کے مسائل اور عوامی محرومیاں

امیر جماعت اسلامی نے ‘جینے دو کراچی کو’ مارچ سے خطاب میں کہا کہ کراچی میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تین کروڑ کی آبادی کے شہر میں نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر حکمران اس کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیرے اور جاگیردار شہر پر مسلط ہیں اور حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی۔

حافظ نعیم الرحمان نے گل پلازہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہاں آگ لگی، تو میئر کراچی اور وزیر اعلیٰ نے موقع پر پہنچنے میں تاخیر کی، جبکہ وفاقی اور صوبائی قیادت متاثرین کے دکھوں پر کوئی فوری توجہ نہیں دے سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جن میں پانی، ٹرانسپورٹ اور صفائی شامل ہیں۔

حکومتی تنقید اور مطالبات

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی بسوں کے اشتہار بھی عوامی ٹیکس کے پیسے سے چلائے جاتے ہیں، جبکہ شہری مہنگائی، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص ٹرانسپورٹ سہولیات برداشت کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی شفاف جوڈیشل انکوائری چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں کرائی جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ کراچی کے مسائل کا اصل مرکز زرداری ہاؤس ہے، اور موجودہ سیاسی نظام عوام کے مفاد میں کام نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری اپنا حق لینے کے لیے تیار ہیں اور دھرنے کے ذریعے اپنا پیغام پہنچائیں گے۔

دھرنے کی تاریخ اور منصوبہ

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر تاریخی دھرنا دے گی۔ دھرنے کے دوران روزہ بھی رکھا جائے گا اور تراویح بھی پڑھیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے حصول کے لیے ہے اور شہر کے عوام اپنا حق لے کر اٹھیں گے۔

انہوں نے عوامی شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنا شہر کی حقیقی طاقت اور شہریوں کے حق کا مظاہرہ ہوگا، اور جماعت اسلامی اس کے ذریعے کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ پیغام دے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter