بانی پی ٹی آئی کو اہلِ خانہ اور معالج سے ملنے دیا جائے، جاوید لطیف کی حکومت سے اپیل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جاوید لطیف نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری طور پر اپنے اہلِ خانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

latest urdu news

ان کا مؤقف تھا کہ کسی بھی فرد کی زندگی اور صحت کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مشکل وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناساز ہے تو انسانی ہمدردی کے تحت ان کی فیملی اور پرائیویٹ ڈاکٹر سے ملاقات کروانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کی بیماری پر خوش ہونا یا اسے سیاسی رنگ دینا مناسب رویہ نہیں۔ ان کے مطابق، حکومت کو چاہیے کہ اگر ضرورت ہو تو بیرونِ ملک علاج کی اجازت دینے پر بھی سنجیدگی سے غور کرے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر بھی تحفظات ظاہر کیے کہ صحت سے متعلق اعداد و شمار یا بیانات کو مبالغہ آمیز انداز میں پیش کرنا بھی درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ ہینڈل کیا جانا چاہیے تاکہ غیر ضروری افواہوں اور بے چینی سے بچا جا سکے۔

عمران خان کی آنکھ کی حالت پر بہت دکھ ہے:محمود قریشی

جاوید لطیف نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں وہ خود دیگر سیاسی رہنماؤں کی بیماری کا مذاق اڑاتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود اصولی مؤقف یہی ہے کہ کسی کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ وزیر اعظم ہو یا عام شہری۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی کو قید کے دوران متعدد افراد سے ملاقات کی سہولت حاصل رہی۔ ان کے بقول، ریاستی معاملات اور بیرونی روابط کے حوالے سے بھی کئی سوالات موجود ہیں جن کا جواب آنا چاہیے، خصوصاً فارن فنڈنگ کیس کے تناظر میں۔

ایک سوال کے جواب میں جاوید لطیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف کا موازنہ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بانی پی ٹی آئی ایک جلسے کے دوران زخمی ہوئے تھے تو نواز شریف نے اپنے جلسے منسوخ کر دیے تھے، جو سیاسی رواداری کی مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض ترقیاتی امور، جیسے بنی گالہ کی سڑک کی تعمیر، بھی سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر مکمل ہوئے تھے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر انسانی بنیادوں پر فیصلے کرنا ہی بالغ نظری کی علامت ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter