ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
یہ حکم سینئر سول جج عباس شاہ نے ریاستی اداروں پر مبینہ طور پر گمراہ کن الزامات لگانے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران سہیل آفریدی کی مسلسل عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کی غیر حاضری عدالتی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے، اس لیے انہیں گرفتار کر کے پیش کرنا ضروری ہے۔ کیس کی مزید سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
2018 سے 2022 تک خیبر پختونخوا میں امن تھا، رجیم چینج کے بعد حالات بگاڑے گئے: سہیل آفریدی
عدالتی ریکارڈ کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے، جو این سی سی آئی اے (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔ مقدمے میں الزام ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف ایسے بیانات دیے گئے جن سے عوام کو گمراہ کیا گیا اور اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی۔
ذرائع کے مطابق پولیس اور متعلقہ اداروں کو عدالتی حکم نامہ موصول ہو چکا ہے اور گرفتاری کے لیے کارروائی متوقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں کیس پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ سماعت پر اہم پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
