اسلام آباد میں کھلے گٹر میں گرنے سے تین سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد کے علاقے سنبل میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں کھلے گٹر میں گرنے کے باعث تین سالہ معصوم بچہ جاں بحق ہو گیا۔ یہ سانحہ شہر میں حفاظتی اقدامات کی کمی اور غیر قانونی تعمیرات کے خطرناک نتائج کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ شہریوں نے متعلقہ اداروں کی غفلت پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا۔

latest urdu news

ترجمان اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسی مہر آبادی میں پیش آیا جو مبینہ طور پر قبضے کی زمین پر قائم کی گئی تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ علاقے میں سیوریج کے نظام کے لیے بغیر کسی حفاظتی انتظام کے کھدائی کی گئی تھی۔ اسی کھلے گڑھے میں کھیلتے ہوئے تین سالہ بچہ گر گیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

اطلاعات کے مطابق گٹر یا سیوریج کے لیے بنائے گئے اس گڑھے کے اردگرد نہ تو حفاظتی باڑ لگائی گئی تھی اور نہ ہی کوئی انتباہی نشان موجود تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بچوں کا اس علاقے میں آنا جانا معمول کی بات تھی، تاہم کھلے گڑھے کو ڈھانپنے یا محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا، جو ایک بڑی غفلت ہے۔

ترجمان آئی سی ٹی نے مزید کہا کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پلاٹ میں غیر قانونی طور پر کھدائی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ متعلقہ محکمے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ تعمیراتی کام کس کی اجازت سے کیا گیا اور حفاظتی اصولوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

کورنگی میں کمسن بچہ کھلے مین ہول میں جاں بحق

یہ واقعہ اس سے قبل ملک کے دیگر شہروں، خصوصاً کراچی، میں پیش آنے والے ایسے ہی حادثات کی یاد دلاتا ہے جہاں کھلے نالوں اور گٹروں میں گرنے سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے غیر قانونی آبادیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں اور تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

علاقہ مکینوں نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے اور شہر بھر میں کھلے گٹروں اور نالوں کو فوری طور پر بند یا محفوظ بنایا جائے، تاکہ شہریوں، بالخصوص بچوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter