اسلام آباد میں سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایران کی مزاحمت نے خود کو سپر پاور کہنے والے امریکہ کو سخت چیلنج دیتے ہوئے خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے، جسے امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے خلاف مبینہ جارحیت کے تناظر میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور حکومتی مؤقف کے مطابق ایران کے حقِ دفاع کی حمایت کی جا رہی ہے۔
مشاہد حسین سید نے ایرانی قیادت اور عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران نے دباؤ کے باوجود مضبوط مؤقف اختیار کیا اور خطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسرائیلی حملے میں ایرانی انٹیلیجنس وزیر کی ہلاکت کا دعویٰ، ایران خاموش
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹرمپ ماضی میں مختلف عالمی طاقتوں پر تنقید کرتے رہے، تاہم اب آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے پر انہی ممالک سے تعاون کے طلبگار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کی میڈیا کوریج، آبنائے ہرمز کی اہمیت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کا اشارہ ہے کہ حالات پیچیدہ ہو چکے ہیں، جبکہ ایران خطے میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
