بین الاقوامی امور کے معتبر جریدے دی ڈپلومیٹ نے واشنگٹن میں پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو نہ صرف کامیاب بلکہ مؤثر قرار دیتے ہوئے کھل کر سراہا ہے۔ جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں پاکستان نے دانش مندانہ سفارتکاری کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کیا اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سمت دی۔
پاک بھارت تنازع اور امریکی کردار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات ایک جمود کا شکار ہو گئے۔ اس کے برعکس پاکستان نے اس صورتحال کو سفارتی موقع میں تبدیل کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے ثالثی کردار کو مثبت اور تعمیری انداز میں سراہا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔
اعلیٰ سطحی روابط اور وائٹ ہاؤس ملاقاتیں
دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا جانا ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔ بعد ازاں ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس دورے نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ ان ملاقاتوں کے دوران ہونے والی گفتگو محض سکیورٹی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری جیسے اہم شعبوں تک پھیل گئی۔
تجارت، سکیورٹی اور دفاعی تعاون میں پیش رفت
جریدے کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی سے متعلق ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا، جسے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مشترکہ طور پر بڑے تیل ذخائر کو ترقی دیں گے۔ اسی تسلسل میں دسمبر 2025 میں پاکستان کو ایف-16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری بھی حاصل ہوئی، جو دفاعی تعاون کی بحالی کا واضح اشارہ ہے۔
علاقائی و عالمی سفارتی اثرات
دی ڈپلومیٹ کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی تجدید پر بھی زور دیا، جبکہ امریکا نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔ دوسری جانب امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے باعث بھارت پر 50 فیصد امریکی ٹیرف عائد کر دیا گیا، جسے خطے میں طاقت کے توازن کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود فعال، متوازن اور حقیقت پسندانہ سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو اجاگر کیا۔ واشنگٹن میں یہ کامیاب سفارتی حکمتِ عملی نہ صرف پاک امریکا تعلقات کی بحالی کا سبب بنی بلکہ خطے میں پاکستان کے کردار کو بھی مزید نمایاں کر گئی۔
