اسلام آباد میں ایک جدید اور بین الاقوامی معیار کے اسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیر داخلہ نے اسٹیڈیم کا حتمی ڈیزائن صرف 10 روز میں طلب کر لیا، تاکہ منصوبے کی تعمیر جلد از جلد شروع کی جا سکے۔
یہ اسٹیڈیم نہ صرف ملکی کرکٹ کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح کے میچز کی میزبانی کے لیے بھی قابل استعمال ہوگا۔ اس کے ساتھ اسلام آباد کی کھیلوں کی سہولیات میں اضافہ ہوگا اور نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے ماحول میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔
دیگر ترقیاتی منصوبے
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا:
- نیشنل پارک کے لیے مخصوص ایریا مختص کرنا تاکہ شہریوں کے لیے جدید اور محفوظ تفریحی جگہ فراہم کی جا سکے۔
- سیف سٹی پروجیکٹ کے دائرہ کار میں توسیع تاکہ اسلام آباد میں شہریوں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
- کشمیر چوک پر ‘اسمارٹ انڈر پاس’ کی تعمیر تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے اور رش میں کمی آئے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر اور فیڈرل کانسٹیبلری، رینجرز، اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ہیڈکوارٹرز کے لیے اراضی مختص کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
تجاوزات کے خلاف اقدامات
وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہے گا اور واگزار کرائی گئی اراضی کا مفاد عامہ کے لیے بہترین استعمال کیا جائے گا۔ اجلاس میں خالی کمرشل پلاٹس کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں تاکہ ان زمینوں کو مستقبل میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم، اسمارٹ انڈر پاس، نیشنل پارک اور دیگر ترقیاتی منصوبے شہر کی ترقی اور شہری سہولتوں میں اہم اضافہ کریں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات کے مطابق یہ منصوبے جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت جدید اور محفوظ شہر کے طور پر ابھرے۔
