پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو واضح ہدایت کی ہے کہ آئندہ کوئی ایسا حکم نہیں دیا جائے گا جس کے تحت اسلام آباد کی طرف کسی بڑی تعداد میں چڑھ دوڑ کی جائے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قانونی اور آئینی فورمز کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے سپریم کورٹ میں 17 کیسز اور ہائی کورٹ میں 16 مرتبہ درخواستیں دائر کی ہیں تاکہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے اپنے موقف کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ فیصلے کے بعد پارٹی نے عدالتوں سے رجوع کیا تاکہ کسی بھی غیر قانونی اقدام سے بچا جا سکے اور اپنی آئینی و قانونی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ کسی بھی کنٹینر کی تیاری یا اس کا اسلام آباد کی طرف رخ کرنے کی خبریں درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اختیار دیا ہے کہ وہ پارٹی کی پالیسی کے مطابق فیصلے کریں، چاہے وہ مذاکرات کا راستہ ہو یا کسی قسم کی سیاسی مزاحمت۔
سپریم کورٹ نے عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی اولین ترجیح یہ ہے کہ سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو جائے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے قائم ہو۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس وقت نہ تو اسلام آباد کی طرف کسی قسم کا ہجوم بڑھانے کا ارادہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عمران خان نے اپنے پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کو یہ ہدایت دے دی ہے کہ آئندہ کسی بھی صورت میں اسلام آباد کی طرف بڑے پیمانے پر چڑھ دوڑ کی اجازت نہیں ہوگی۔ پارٹی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ سیاسی جدوجہد آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر ہی کی جائے اور کسی بھی غیر ضروری تصادم یا احتجاج سے گریز کیا جائے۔
