وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ دورہ محض آنکھوں کے معمول کے طبی معائنے کے لیے تھا اور عمران خان کی مجموعی صحت بالکل بہتر ہے۔
سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ماہر امراضِ چشم کی ایک ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا ابتدائی معائنہ کیا تھا۔ طبی ماہرین کی سفارش پر مزید جانچ کے لیے انہیں پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق یہ پوری طبی کارروائی تقریباً 20 منٹ پر مشتمل تھی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ معائنے کے بعد عمران خان کو ضروری طبی ہدایات دی گئیں اور پھر انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دوران عمران خان کی طبی حالت مکمل طور پر مستحکم رہی اور کسی قسم کی ہنگامی صورتحال درپیش نہیں تھی۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی کی خبر پر اپوزیشن اور پی ٹی آئی کا شدید ردعمل
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جیل قوانین کے مطابق تمام قیدیوں کو ڈاکٹر تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور عمران خان کو بھی وہی سہولتیں دی جا رہی ہیں جو قواعد و ضوابط کے تحت بنتی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں اور وہ بالکل صحت مند ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیے جانے سے متعلق مختلف خبریں گردش کر رہی تھیں، تاہم حکومت کی جانب سے اس پر باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔ عطا تارڑ کے بیان کے بعد اس حوالے سے پائی جانے والی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
