پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش برقرار ہے، تاہم ان کی طبیعت میں قدرے بہتری آئی ہے۔ یہ بات عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہی۔ ان کے مطابق عمران خان اس وقت پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں، لیکن وہ تاحال مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے۔
مریم ریاض وٹو نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے بشریٰ بی بی کی عمران خان سے ملاقات کروائی گئی، جس دوران عمران خان نے اپنی صحت کے حوالے سے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے بشریٰ بی بی کو بتایا کہ انہیں تقریباً دو ہفتوں سے ایک آنکھ سے دھندلا نظر آ رہا تھا، جس پر وہ مسلسل جیل کے عملے کو آگاہ کرتے رہے، تاہم ان کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی بار بار درخواستوں کے باوجود جیل انتظامیہ نے بروقت مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی اور ابتدائی طور پر ایک جونیئر ڈاکٹر کو بھیجا گیا، جس نے معائنے کے بعد واضح کیا کہ یہ مسئلہ اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے اور معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ اس کے بعد پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ماہر ڈاکٹروں کو بلایا گیا۔
مریم ریاض وٹو کے مطابق پمز کے ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد واضح طور پر کہا کہ عمران خان کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں اور اگر فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل نہ کیا گیا تو ان کی آنکھ کو مستقل نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹروں نے اس صورتحال کو ہنگامی قرار دیا اور فوری اسپتال منتقلی پر زور دیا۔
عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص
بیان کے مطابق جیل کا عملہ ابتدا میں اس بات پر بضد تھا کہ عمران خان کا علاج جیل میں ہی کیا جائے، تاہم پمز کے ڈاکٹروں نے اپنی پیشہ ورانہ رائے پر قائم رہتے ہوئے اصرار کیا کہ اسپتال منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ بالآخر ڈاکٹروں کے اصرار پر عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ اور علاج کیا گیا۔
مریم ریاض وٹو نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اگرچہ عمران خان کی طبیعت میں اب بہتری آئی ہے، تاہم وہ اب بھی مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں اور ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات ایک بار پھر سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث آ گئے ہیں، جہاں ان کی طبی سہولیات اور جیل میں علاج کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
