اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر نوٹس جاری کر دیے ہیں اور این سی سی آئی اے سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت کی تاریخ مقرر کی ہے۔
سماعت کے دوران فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے دو گواہوں کے بیانات ملزمان کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرنے کے بعد فیصلہ سنایا، اور ایک پیراگراف کو خارج کر دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر سزا دینی ہے تو پوری ٹرائل کے بعد دی جائے، نہ کہ بغیر مکمل سماعت کے۔ جسٹس محمد آصف نے نوٹس جاری کرنے اور پیپر بکس جمع کروانے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت ملتوی کر دی اور فریقین کو اپیل پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ وکیل کی استدعا پر عدالت نے اگلی سماعت پیر یا منگل کو کرنے کی تاریخ تجویز کی۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پولیس کے ساتھ جھگڑے اور احتجاج کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے دونوں ملزمان کو 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دے دی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا
ملزمان کے وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ بے بنیاد ہے اور اچانک سامنے آیا، جس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی منظوری دے دی اور مقدمے کی مزید کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔
یہ مقدمہ تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد میں درج ہے اور دونوں ملزمان کی اپیلوں کا کیس اب ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔
