امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی اور حکومتی طرزِ حکمرانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کی سیاسی لانچنگ گل پلازا میں جل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 برس سے سندھ میں اقتدار میں ہے، مگر عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حال ہی میں بلاول بھٹو نے ڈھائی گھنٹے طویل تقریر کی، مگر اس کے باوجود عوام کے اصل مسائل حل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آگ کیسے لگی اور ذمہ دار کون ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پر بھی سخت سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس محکمے میں بدعنوانی اور لوٹ مار عروج پر ہے، جس کے باعث شہری غیر محفوظ عمارتوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر عمارتوں میں فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی انتظامات موجود ہی نہیں ہیں، جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق کالا قانون واپس لیا جائے اور فوری طور پر شفاف اور بااختیار بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت جمہوریت کی نرسری ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہر حکومت بلدیاتی انتخابات سے بھاگتی ہے۔
گل پلازہ سانحہ: دو منزلیں کلیئر، ہلاکتوں کی تعداد ، 83 افراد تاحال لاپتا
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 15 فروری تک اپنی احتجاجی اور عوامی سرگرمیاں جاری رکھے گی، جس کے بعد پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ اور دیگر آپشنز کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کو تین حصوں میں تقسیم کر کے انتخابات سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہے، کیونکہ وہ عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں جاگیرداروں، وڈیروں، خانوں، سرداروں اور چوہدریوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے، جبکہ بیوروکریسی بھی اسی سوچ کے تحت چل رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں شفاف نظام، بااختیار بلدیاتی اداروں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
