امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کی خراب صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر شہر کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں اور ہر سانحے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی کشمکش شدت اختیار کر جاتی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جسے عوام منتخب کریں، اسے میئر ہونا چاہیے، قبضہ میئر نہیں۔ انہوں نے گل پلازہ کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے لوگ بے بسی کی کیفیت کا شکار ہیں اور ملک سے مایوسی پھیل رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے فائر فائٹنگ اور ہنگامی خدمات پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آگ بجھانے کا کوئی مؤثر انتظام نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس آگ سے بچنے کے مناسب لباس یا ماسک موجود نہیں تھے، اور نہ ہی وہ کٹ دستیاب تھی جس سے وہ محفوظ طریقے سے آگ بجھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں بارش کے بعد پانی نکالنے یا آگ لگنے پر اسے بجھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ گرین لائن پروجیکٹ اب تک مکمل نہیں ہوا اور ریڈ لائن منصوبہ 2024 میں مکمل ہونا تھا، مگر ابھی تک یہ مکمل نہیں ہوا۔ اس دوران متعلقہ سڑکیں توڑ دی گئیں، اور شہر میں غیر شفاف کام، کرپشن اور کک بیکس کا سلسلہ جاری ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا حکومت اور پیپلز پارٹی پر کڑا تنقید، گل پلازہ سانحے کو علامت قرار دے دیا
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وفاق اور صوبہ سب مل کر حکومت کر رہے ہیں لیکن شہر کا بیڑا ڈوب رہا ہے، پورشن کے غیر قانونی کاروبار بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے مسائل کا حل نہ صوبائی کنٹرول سے ہے اور نہ وفاقی کنٹرول سے بلکہ کراچی سٹی گورنمنٹ کے مؤثر کردار سے ممکن ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور منتخب نمائندوں کے ذریعے شہر میں حقیقی تبدیلی لائیں تاکہ بنیادی سہولیات اور شہری تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
