کراچی کے علاقے ضلع جنوبی میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ کئی گھنٹوں سے موقع پر موجود ہیں جہاں اب تک عمارت کے دو فلورز کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر منزلوں تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی جاوید نبی کھوسو کے مطابق گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور پہلے فلور میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں اب دوسرے اور تیسرے فلور میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم داخلی راستے بند ہونے کے باعث کٹر کی مدد سے لوہے کی گرلیں کاٹی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ حصوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
ڈی سی کے مطابق رات کے وقت مزید دو لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی 83 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری ہے، کیونکہ عمارت کے اندر دھواں، ملبہ اور خطرناک حالات ریسکیو کام کو مشکل بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ اب تک 20 لاشیں سول اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 14 لاشوں کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جبکہ 7 لاشوں کی باقاعدہ شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں سے ایک کی شناخت قومی شناختی کارڈ کی مدد سے ممکن بنائی گئی۔ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے۔
پولیس سرجن کے مطابق متوفین کے 48 اہل خانہ کے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں، جنہیں سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز میں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ سے ملنے والے بعض انسانی اعضا پر بھی فارنزک جانچ جاری ہے۔
گل پلازہ کی چھت سے کرین کے ذریعے 7 گاڑیاں اتار لی گئیں
سانحے کے حوالے سے متاثرہ دکانداروں نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 26 داخلی و خارجی دروازے موجود ہیں، تاہم رات 10 بجے کے بعد 24 دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور صرف دو راستے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق کسی قسم کا ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے لوگ شدید خوف اور افراتفری کا شکار ہو گئے۔
دکانداروں نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، جس کے باعث نہ کچھ نظر آ رہا تھا اور نہ ہی کسی کو صحیح سمت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ عمارت دھوئیں سے بھر چکی تھی اور سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ کئی افراد دم گھٹنے کے باعث بے ہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ متعدد لوگوں کو دکانداروں اور دیگر افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا۔ واقعے کے وقت دکانوں میں ورکرز اور گاہکوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس نے اس سانحے کو مزید المناک بنا دیا۔
