آتشزدگی سے متاثرہ گل پلازہ میں ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عمارت کی چھت پر کھڑی گاڑیوں کو کرین کی مدد سے نیچے اتار لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 7 گاڑیاں اتاری جا چکی ہیں، جن میں سے دو گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت گل پلازہ کی چھت پر متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک تھیں، جو شدید حرارت اور دھوئیں کے باعث وہیں پھنس گئی تھیں۔ عمارت کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر گاڑیوں کو نیچے لانے کے لیے بھاری کرین کا استعمال کیا گیا، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے حفاظتی اقدامات کے ساتھ آپریشن مکمل کیا۔
گل پلازہ میں کاروبار کرنے والے تاجر عامر نے بتایا کہ واقعے کے روز معمول کے مطابق چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے بعد حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ کسی کو اپنی گاڑی نکالنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کے بارے میں اہلِ خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
سانحہ گل پلازہ میں ریسکیو کی ناکامی حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے: صدر انجمن تاجران سندھ
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے مختلف حصوں میں سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے اور ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ لاپتا افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ شناخت اور تلاش کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے نے پارکنگ، ایمرجنسی رسپانس اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ شہریوں کی قیمتی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ متاثرہ تاجروں اور شہریوں کے نقصانات کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔
