گل پلازہ سانحہ: این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیکنیکل ٹیم نے تحقیقات شروع کر دی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی میں گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے پوری عمارت کو تباہ کر دیا، جس کے بعد سانحے کی تحقیقات کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیکنیکل ٹیم نے عمارت کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور تفصیلی معائنہ کیا۔

latest urdu news

ٹیکنیکل اور فرانزک ٹیم کی کارکردگی

پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تحقیقاتی ٹیم کو مکمل سہولیات فراہم کیں تاکہ وہ عمارت کے ہر ممکنہ زاویے کا جائزہ لے سکیں۔ اس دوران ٹیم نے اربن سرچنگ کے عمل کو بھی نگرانی کے ساتھ انجام دیا۔ ٹیم کے مطابق جہاں سرچنگ مکمل ہو رہی ہے، وہاں مارکنگ کی جا رہی ہے تاکہ آگے کسی بھی خطرناک مقام کی نشاندہی کی جا سکے۔

خطرے کی نشاندہی کے لیے مارکنگ

گل پلازہ کے مختلف مقامات پر ‘ایچ’ کا نشان لگایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ جگہ خطرناک ہے اور عمارت گرنے کا خدشہ موجود ہے۔ یہ اقدام ٹیم کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مزید حادثات سے بچاؤ کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے۔

سانحہ گل پلازہ: ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے کا عزم، میئر کراچی کا متاثرین سے اظہارِ یکجہتی

انسانی باقیات کی بازیابی اور شناخت

این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیم کے ساتھ ساتھ انچارج سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ نے بھی انسانی باقیات کے حوالے سے ابتدائی معلومات فراہم کیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال پہنچائی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 22 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 6 لاشیں قابلِ شناخت ہیں اور باقی 15 کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی۔

اگلے اقدامات

ٹیکنیکل ٹیم کی جانچ کے بعد مزید تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے گی، جس میں آگ لگنے کے وجوہات، عمارت کی ساخت، اور ممکنہ حفاظتی نقائص کی نشاندہی شامل ہوگی۔ یہ رپورٹ مستقبل میں ایمرجنسی رسپانس اور بلڈنگ سیفٹی قوانین کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان پہنچایا بلکہ شہریوں کے لیے عمارتوں کی حفاظت اور ہنگامی تیاری کے حوالے سے ایک سنجیدہ انتباہ بھی دیا ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیم کی تحقیقات سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے عملی سفارشات سامنے آئیں گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter