حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے سے نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر سسٹم استعمال کرنے والے صارفین سے نیٹ بلنگ وصول نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا اور پالیسی میں اچانک تبدیلی سے پیدا ہونے والی بے یقینی کو ختم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ ایک ماہ تک نیٹ میٹرنگ پالیسی میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم کی ہدایت پر کیا گیا ہے تاکہ سولر صارفین کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ نیٹ بلنگ پالیسی کا اطلاق صرف نئے سولر صارفین پر ہوگا جبکہ موجودہ صارفین بدستور پرانے قواعد کے تحت مستفید ہوتے رہیں گے۔
اویس لغاری نے یہ بھی بتایا کہ حکومتی اتحادی جماعتیں نیٹ میٹرنگ کے مکمل خاتمے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی آرا کو مدنظر رکھ کر حتمی فیصلہ کرے گی۔
یاد رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حال ہی میں نیشنل گرڈ کو فروخت کی جانے والی بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ نئے ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی اضافی بجلی 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرتے رہیں گے، جبکہ نئے صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت میں 17 روپے 19 پیسے تک نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت، سولر صارفین کے ریگولیشنز پر فوری نوٹس
وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے جاری کردہ ان نئے قواعد کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ طلب کی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد نظام کو پائیدار بنانا ہے، تاہم ایسے فیصلوں میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ قابلِ تجدید توانائی کو فروغ بھی ملے اور صارفین پر غیر ضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔
