ملک میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ دوسرے روز بھی نہ رک سکا اور سونے نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث سونے کی قیمت میں ایک ہی دن میں 21 ہزار روپے سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 21 ہزار 200 روپے اضافے کے بعد 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے ہو گئی ہے۔ اس غیر معمولی اضافے نے خریداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف فی تولہ ہی نہیں بلکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 10 گرام سونا 18 ہزار 175 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 91 ہزار 136 روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے، جو عام صارف کی پہنچ سے مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں تیزی برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی بازار میں سونا 212 ڈالر اضافے کے بعد 5505 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے دباؤ، جیو پولیٹیکل کشیدگی اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
سونے کی قیمت نے تاریخ رقم کر دی، ایک دن میں 21 ہزار سے زائد اضافہ
واضح رہے کہ صرف جنوری 2026 کے دوران ہی سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 15 ہزار 900 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جو ملکی تاریخ میں ایک غیر معمولی رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تیز رفتار اضافے کے باعث شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے سونے کی خریداری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی مارکیٹ مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ عام شہریوں کے لیے زیورات خریدنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور ڈالر کی قدر پر ہوگا، تاہم فوری طور پر کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
