آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی چھلانگ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے نے مہنگائی کے ستائے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اس بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ عام شہری دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشانی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔

latest urdu news

وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران آٹے کے 20 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت میں مختلف شہروں میں 40 روپے سے لے کر 590 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ملک کے تقریباً تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں دیکھا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں بڑھوتری ایک قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت ملک میں سب سے زیادہ ہو چکی ہے، جہاں یہ قیمت بڑھ کر 2 ہزار 893 روپے 33 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ اضافہ سرگودھا میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں آٹے کا تھیلا 590 روپے مہنگا ہو گیا۔ اسی طرح ملتان میں 226 روپے 66 پیسے، خضدار میں 200 روپے، بہاولپور میں 163 روپے 33 پیسے اور کوئٹہ میں 140 روپے کا اضافہ سامنے آیا۔

دیگر شہروں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی۔ گوجرانوالہ میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 134 روپے بڑھی، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں 120 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی، پشاور، سکھر اور لاڑکانہ میں آٹے کی قیمت میں 100 روپے تک اضافہ ہوا، جبکہ حیدرآباد اور سیالکوٹ میں 80 روپے، بنوں میں 50 روپے اور لاہور میں 40 روپے تک قیمت بڑھ گئی۔

ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ، حیدرآباد اور پشاور سب سے زیادہ متاثر

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق تازہ قیمتوں کے تحت راولپنڈی میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 2 ہزار 866 روپے 47 پیسے، پشاور میں 2 ہزار 850 روپے، بنوں میں 2 ہزار 800 روپے، کوئٹہ میں 2 ہزار 660 روپے جبکہ کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 600 روپے تک جا پہنچا ہے۔

ماہرین کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اس تیز رفتار اضافے کی بڑی وجوہات میں گندم کی سپلائی میں مسائل، ذخیرہ اندوزی، ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ اور کمزور حکومتی نگرانی شامل ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

آٹے کی قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر مارکیٹ میں مداخلت کرے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter