اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان رواں مالی سال عالمی سرمایہ منڈیوں سے قرض لینے میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ حکومت کی توجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور پائیدار معاشی استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان عالمی سرمایہ منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھانا چاہتا ہے، تاہم نئے قرضوں کے اجرا کا وقت، حجم، قیمت اور مدت عالمی مالیاتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی جائے گی۔
عالمی سرمایہ منڈیوں سے قرض لینے کی حکمت عملی
وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان کی قرض لینے کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینا اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا دباؤ کم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں نجی طور پر 75 کروڑ ڈالر کے بانڈز جاری کیے، جبکہ چین کی پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کریڈٹ انہانسمنٹ کا طریقہ استعمال کیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی اور گہری بانڈ مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے پانڈا بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
ان کے مطابق، پاکستان نے تقریباً 3 ہفتے قبل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی جاری کیے، جن کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے جاری کردہ حجم سے تقریباً دوگنا طلب موصول ہوئی۔ اس اجرا میں ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔
ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ پروگرام پر پیش رفت
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اب تک 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کر چکا ہے، جبکہ ایک ارب ڈالر کے مجموعی پروگرام کے تحت مزید بانڈز کے اجرا کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ درمیانی مدت کی حکمت عملی کے تحت اسلامی سکوک کے اجرا کے لیے متعلقہ اداروں کو مینڈیٹ بھی دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ روپے میں مالیت اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی سامنے آئی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق، حکومت یورو بانڈز کی ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جس کا مقصد عالمی سرمایہ منڈیوں میں مالیاتی ذرائع کے نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان رواں مالی سال اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی منڈیوں سے مزید قرض لینے میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ حکومت بعض مختصر مدت کے بیرونی قرضوں کو طویل مدت کے قرضوں میں تبدیل کرنے کی خواہش مند ہے، جبکہ مجموعی بیرونی قرضوں کی سطح کو برقرار رکھنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
مالی سال کے پہلے ماہ پاکستان نے 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے غیر ملکی قرضے لیے
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی توقع
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے اب تک پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں 3 مرتبہ بہتری آئی ہے اور ملک کی ریٹنگ اب بی کیٹیگری میں ہے۔
ان کے مطابق، گزشتہ 40 برس کے دوران پاکستان کی بہترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی پلس رہی ہے۔ اگر معاشی بہتری کا موجودہ سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان اگلے سال کے آغاز تک بی پلس ریٹنگ حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری لاتے ہوئے ڈبل بی کیٹیگری میں داخل ہونا ہے۔ اس مقصد کے لیے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی شرح نمو میں بہتری
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانی روپے کا استحکام مجموعی معاشی صورتحال میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کی ضروریات پوری کرنے کے برابر ہیں، جبکہ 3 سال قبل یہ ذخائر صرف 2 ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 3 سال قبل پاکستان کی معاشی شرح نمو کم ہو کر 0.3 فیصد رہ گئی تھی، بعد ازاں یہ شرح 2.6 فیصد تک پہنچی اور گزشتہ مالی سال 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وزیر خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان رواں مالی سال معاشی شرح نمو میں گزشتہ سال کی سطح سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح سود کو مناسب سطح پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔
امریکا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی اقتصادی سوچ امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق، امریکی تجارتی نمائندوں کے ساتھ ٹیرف مذاکرات اور فریم ورک معاہدے کے لیے فعال بات چیت جاری ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور امریکی وزیر تجارت کے ساتھ بھی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان امریکا کی جانب سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جاری رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع کے معاشی اثرات کی نگرانی
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق، حکومت مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے مہنگائی اور معاشی شرح نمو پر مرتب ہونے والے اثرات کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے پاکستان کی معاشی نمو کو متاثر کیا تھا۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ عالمی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیاتی اور قرضوں سے متعلق فیصلے کرے۔
مجموعی طور پر، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے ساتھ قرضوں کے انتظام کو پائیدار بنانا چاہتا ہے۔ حکومت کی حکمت عملی میں نئے قرضوں کے اجرا میں احتیاط، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
