مردان: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ عمران خان مغربی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے، لیکن مغرب کے اصل ایجنڈے پر موجودہ حکومت عملدرآمد کر رہی ہے۔
مردان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون بہ رہا ہے اور شہباز شریف، ٹرمپ کو امن کا نوبل دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، اور مسلح گروہوں کو جنگ چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے ملکی معیشت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان وہ ملک نہیں جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں، آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا اور عوامی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی مرضی چل رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں ترمیم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس کے لیے ارکان خریدے گئے اور جعلی اکثریت کے ساتھ ترمیم منظور کرائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اور 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔
